Not found
Search wrapped
Only one result found
خدا کے منصوبوں  اورمقاصد کے قریب رہنا(قضاۃ۱۳۔۱۶)۔

خدا کے منصوبوں اورمقاصد کے قریب رہنا(قضاۃ۱۳۔۱۶)۔

اگرسمسون اپنی پہیلیوں سے اپنے دشمنوں کو غصہ نہ دلاتا تو وہ اُنہیں شکست دے سکتا تھا۔ دراصل وہ ہر فلستی کا بدترین دشمن تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا! کیونکہ سمسون اب سورما نہیں بلکہ وہ پہلے کبھی سورما تھا۔ اب وہ محض اپنے ماضی کی ایک یادگار کی مانند تھا۔

قید میں جبری مشقت اور چکی کے پاٹ سے پیسنےکی وجہ سے چند ماہ میں وہ خود کو کمزور،ناتواں اور لاچارمحسوس کررہا تھا(قضاۃ۲۱:۱۶)۔ یہ دیکھ کر آپ افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے کہ وہ ایک سورما کو بے رحمی کے ساتھ گھسیٹ کر کھلی جگہ پر لے آئے ۔جہاں بڑی تعداد میں فلستی جمع تھے جو دجون دیوتا کے سامنے اپنی فتح کا جشن منانے کے لئے آئے تھے (قضاۃ۲۳:۱۶)۔وہ اُس پر ہنس کر اُس کا مذاق اڑا رہے تھے ۔

اب وہ سورما کی بجائے ایک کھلونا بن کر رہ گیا تھا۔ اس کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ اس کو وہاں پر محض بھیڑ کی تفریح کے لئے لایا گیا تھا۔ اُن کی دل دکھانے والی باتیں سن کر اسے بڑی تکلیف ہوتی ہو گی۔ اس سے بھی بدتر ین بات یہ ہے کہ اب سورما محض ایک مذاق بن کررہ گیا تھا۔

ہمیں سمسون کی کہانی کو قضاۃ کی کتاب کے پس منظر میں سمجھنا چاہئے۔ جہاں ہمیں لوگوں اور راہنماؤں کے عروج و زوال کی داستان ملتی ہے۔

کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح لوگ گناہوں کا شکار ہوئے جس نے ان کی ذاتی زندگیوں ، معاشرے اور عبادات کو متاثر کیا۔ اسرائیلی بار بار اس جملے کو دھرایا کرتے تھے کہ ’’ان دنوں اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہیں تھااور ہرشخص جو کچھ اُس کی نظر میں اچھا معلوم ہوتا وہی کرتا تھا‘‘۔

سمسون کی کہانی خدا سے دور ہونے کی کہانی ہے۔ اصل المیہ تھا کہ ’’اسے خبر نہ تھی کہ خداوند اس سے الگ ہو گیا ہے‘‘(۲۰:۱۶) ۔ ہم سمسون کی زندگی سے قیمتی سبق سیکھ سکتے ہیں۔

اول ۔ سمسون نے غلط چیزوں کو چنا۔ اس کے چناؤ نے اسے خدا سے دور کردیا۔ سمسون کو نذیر بننا تھا۔ اسے ایک انوکھا طرز زندگی اختیار کرنا تھا۔ ایسی زندگی جس کو خدا کے لئے الگ کیا گیا ہو۔ اس کا چناؤ اس کی طرز زندگی سے ظاہر تھا۔ اس کواپنی زندگی کےمقاصد کے لئے چیزوں کو چننا چاہئے تھا لیکن اس نے غلط چیزوں کو چنا ہے۔ اس نے ایسی چیزوں کو چنا جو اس کی زندگی سے میل نہیں کھاتی تھیں۔ اس کے بالوں کو کاٹنا دراصل نذیر کی منت کو قریب قریب ترک کرنا ہی تھا(۱۹:۱۶)۔ جب بھی ہم غلط چیزوں کا چناؤکرتے ہیں تو ہم خدا سے دور ہوتےجاتے ہیں۔

دوم ۔ سمسون کو اپنی انوکھی خوبیوں کی کوئی قدر نہیں تھی۔سمسون کی منفرد خوبی اس کی طاقت تھی لیکن اس نے اپنے انوکھی خوبی کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ کبھی کبھی ہماری طاقت ہی ہماری سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنی خوبیوں اور ہنر کی قدر کرنی چاہئے جو خدا نے ہمیں نوازے ہیں۔

سوم۔سمسون اپنی زندگی کے لئے خدا کے منصوبوں اور مقاصد کو پوری طرح سے سمجھ نہیں سکا۔ سمسون کا مقصد ’’اسرائیل کو فلستیوں کے ہاتھ سے بچانا‘‘ تھا (۵:۱۳) لیکن اس نے اسرائیل کے لوگوں کو فلستیوں کے خطرے سے بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اسے اپنی بلاہٹ سمجھ ہی نہیں آئی اور اس وجہ سے وہ خدا کے منصوبوں اور مقاصد سے دور چلا گیا۔

سمسون کی زندگی ایک ناکام تھی۔ لیکن یہ کہانی کا خاتمہ نہیں تھا۔ اس نے خدا کے فضل کا تجربہ حاصل کیا۔ ہم پڑھتے ہیں کہ سمسون کے بال بڑھنے لگےتھے (۲۲:۱۶) ۔یہ یقیناً مایوسی کے عالم میں خدا کے فضل کا ثبوت تھا لیکن سمسون اسے پہچان نہ سکا۔

تاہم ، خدا نے اس کی اس دعا کو سنا(۲۸:۱۶) اور وہ فلستیوں کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ دراصل جن کو اس نے اپنی موت کے وقت مارا وہ ان لوگوں سے زیادہ تھے جنہیں اس نے اپنی زندگی کے دوران مارا تھا (۳۱:۱۶)۔

ہمیں خدا کے قریب رہنے کی ضرورت ہے تا کہ خدا کے منصوبوں اور مقاصد سے دور نہ ہو جائیں۔اگر ہم اپنی بری چیزوں کو چھوڑ دیں تو ہم اپنی انوکھی خوبیوں کو جو ہمیں دی گئی ہیں اچھی طرح سے استعمال کر سکیں گے۔اور اپنی بلاہٹ کو درست طور پر سمجھ سکیں گے۔ آمین